اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 27 of 33

اخلاقِ احمد — Page 27

اخلاق ا 27 شیر خدا (۱) مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے بیان کیا کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا۔حضور نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا۔۔۔جب ہم گوداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب مرحوم کو آواز دی کہ وہ نیچے آئیں اور دروازہ کھولیں ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہوکر رونا اور چلانا شروع کر دیا آخر تھوڑی دیر کے بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے ہم نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد حسین منشی آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آجکل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے بعض آر یہ اپنے دوستوں کو بھی جلسہ میں لے گئے جلسہ کی عام کارروائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ اب لوگ چلے جائیں کچھ ہم نے پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں میں بھی جانے لگا مگر میرے آریہ دوست نے کہا کہ اکٹھے چلیں گے چنانچہ میں وہاں ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا پھر اُن آریوں میں سے ایک شخص اُٹھا اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈ لیکھرام کا قاتل ہے اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہونگے اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم میں پہنچا دوں مگر کیا کیا جائے کہ مقدمہ ایسی ہوشیاری سے چلایا جا رہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی لیکن اب میں عہد کرتا ہوں خواہ کچھ ہو اس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔۔محمد حسین مجھ سے کہتا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دوران مقدمہ میں جب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کیسے گرفتار کر کے حوالات میں دیدے۔۔۔۔۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے میں نے سارا قصہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب کو روتے ہوئے پایا پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی رہے۔محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سُنا یا حضور خاموشی سے سنتے جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یک لخت حضرت صاحب اُٹھ کر کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا۔اور آپ نے فرمایا میں اس کا شکار ہوں میں شکار نہیں ہوں میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو