اخلاقِ احمد — Page 28
اخلا 28۔دیکھے حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دُہرائے اور اُس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں۔۔۔پھر آپ نے فرمایا میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔“ وقار (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۰۷) (1) میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ایک عام عادت تھی کہ صبح کے وقت باہر سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے اور خدام آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور ایک ایک میل دو دو میل چلے جاتے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ بہت تیز چلتے تھے مگر بایں ہمہ آپ کی رفتار میں پو را پو را وقار ہوتا تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ اے ) تنگ نہ پڑنا (۱) سیٹھی غلام نبی صاحب نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے فرمایا کہ لوگ حضرت صاحب کو تنگ کرتے ہیں اور بار بار دُعا کے لیے رقعہ لکھ کر اوقات گرامی میں حارج ہوتے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ میں ہی حضور کو بہت تنگ کرتا ہوں شائد رُوئے سخن میری ہی طرف ہو۔سو میں اسی وقت حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اگر حضور ہماری ان باتوں سے تنگ ہوتے ہوں تو ہم انہیں چھوڑ دیں۔حضور نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ بار بار لکھو جتنازیادہ یاد دہانی کراؤ گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۲۴ ) (۲) میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں میں نے ایک خاص بات دیکھی کہ جتنی مرتبہ حضور باہر تشریف لاتے میں دوڑ کر السلام علیکم کہتا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا۔حضور فوراً اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیدیتے۔بیسیوں مرتبہ دن میں ایسا کرتا۔مگر ایک مرتبہ بھی حضور نے نہیں فرمایا کہ تجھے کیا ہو گیا۔ابھی تو مصافحہ کیا ہے۔پانچ پانچ منٹ بعد مصافحہ کی ضرورت نہیں۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۳۵) کسی کو تو نہ کہنا (۱) حافظ نبی بخش صاحب سا کن فیض اللہ چک نے بیان کیا کہ حضور کی عادت میں داخل تھا کہ خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا کسی کو تو “ کے لفظ سے خطاب نہ کرتے تھے حالانکہ میں چھوٹا