اخلاقِ احمد — Page 26
26۔۔۔۔۔۔۔اخلاق آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۹۷ تا ۲۹۸) اپنے تمام وجوہ پیش کر چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شائد سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا اچھا آپ کے لیے رخصت۔یہ سُن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجالایا میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالٰی نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔“ (۳) آئینہ کمالات اسلام میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔” میرے بیٹے سلطان احمد نے ایک ہندو پر بدیں بنیاد نالش کی کہ اُس نے ہماری زمین پر مکان بنالیا ہے اور مسماری مکان کا دعوی تھا اور ترتیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا جس کے ثبوت سے وہ مقدمہ ڈسمس ہونے کے لائق ٹھہرتا تھا اور مقدمہ کے ڈیمس ہونے کی حالت میں نہ صرف سلطان احمد کو بلکہ مجھ کو بھی نقصان تلف ملکیت اُٹھانا پڑتا تھا۔تب فریق مخالف نے موقعہ پا کر میری گواہی لکھا دی اور میں بٹالہ میں گیا۔اس وقت سلطان احمد کا وکیل میرے پاس آیا کہ اب پیشی مقدمہ ہے آپ کیا اظہار دینگے میں نے کہا کہ وہ اظہار ڈونگا جو واقعی امر اور سچ ہے تب اس نے کہا کہ پھر آپ کے کچہری جانے کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں تا مقدمہ سے دست بردار ہو جاؤں سو وہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایت صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو ابْتَغَاءَ لَمَرْضَاتِ اللهِ مقدم رکھ کر ملی نقصان کو نیچ غض بصر " ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۰۰) (۱) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ 'باہر مردوں میں بھی حضرت صاحب کی یہی عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں اور ادھر ادھر آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی آپ کو عادت نہ تھی بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر میں جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جارہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے جتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔“ (۲) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھچوانے لگے۔تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھولکر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئیگی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۴۰۳) (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۴۰۴ )