جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 12
۱۲ شائع کی ہے جس کے صفحہ ۲۱۲ - ۲۱۳ پر نہایت بے شرمی سے معصوموں کے بادشاہ ، شفیع المذنبین ، تاج المرسلین ، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر شرمناک بہتان تراث گیا ہے۔اس کے صفحہ ۲۰۰ پر یہ افترائے عظیم کیا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ کے دوسرے بت تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے مگر حضرت عیسی اور حضرت مریم کے بتوں کو توڑنے کی بجائے ہاتھ تک نہیں لگایا۔اِنَّا للهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔یہ کتاب ۱۹۸۳ء کی قومی سیرت کا نفرنس اسلام آباد کے انگریزی مقابلوں میں اول قرار پائی تھی اور مصنف کو اس پر پانچ ہزار پاؤنڈ کا انعام پیش کیا گیا تھا۔ہے اس ہولناک صورتِ حال کا دوسرا پہلو اور بھی زیادہ تشویش ناک " ہے اور وہ یہ کہ کینیڈا کے مشہور کرسچن جریدہ " پراسپکٹر -PROS) ( PECTOR - کے شمارہ اکتوبر ۱۹۵۸ء کی رپورٹ کے مطابق تقسیم ہند اگست ۱۹۴۷ء) کے وقت پورے پاکستان میں عیسائی آبادی صرف استی بزار پر مشتمل مفتی مگر پاکستان نیشنل کرسچن لیگ کے صدر نے ستمبر ۱۹۷۱ء میں یہ بیان دیکر پاکستان کے عوام کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ اب جدید پاکستان میں مسیحی اقلیت کی تعداد ساٹھ لاکھ تک جاپہنچی ہے۔انہوں نے اب ے جناب پروفیسر بیع اللہ اس کا سایا اور پانی لانے کامطالبہ ترا د جنگ لاہور ۱۳ نومبر ۱۹۸۴ء ص ۲)