حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 21
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ 21 کہ آپ علیہ باہر سے تشریف لائے تو بڑے پیار سے کہا۔عائشہ گیت اور راگ تو ہے نہیں !" گویا آنحضرت ﷺ نے پسند فرمایا کہ خوشی کے موقعہ پر اچھے گیت گائے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔آنحضرت می ﷺ کو علم تھا کہ انصار کی لڑکیاں اچھے گیت گا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا کرتی ہیں جیسا کہ انہوں نے مدینہ ہجرت کے موقعہ پر پیارا سا گیت گا کر آنحضرت علی کا استقبال کیا تھا۔طَلَعَ الْبدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الوداع وجَبَ الشَّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع چودھویں کا چاند ہم پر وداع کی گھاٹیوں سے نکلا ہے۔ہم پر ہمیشہ کے لئے اللہ کا شکر فرض ہو گیا۔حضرت ابو بکر سارے قریش میں علم انساب وشعر میں بہت ماہر تھے۔آپ نے تاریخ وادب تو اپنے والد صاحب سے سیکھا اور طب کا علم ان عرب نمائندوں سے سیکھا جو آنحضرت علیہ کی خدمت میں ملاقات کرنے کے لئے آیا کرتے تھے۔زندگی کے آخری دنوں میں جب حضور یہ بیمار ہوتے تھے تو حکیم جو دوائیں بتایا کرتے تھے حضرت عائشہ ان کو یاد کر لیا کر لیتیں اور اس طرح علم طب میں بھی آپ کو بہت زیادہ