ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 39
۳۹ ان کے دلائل بے وزن تھے اور وہ ہرگز یہ ثابت نہیں کر سکے کہ مولانا اشرف علی صاحب نے یہ عبارات مرزا غلام احمد صاحب کی کتب کی بجائے فلاں فلاں کتب سے لی ہیں۔لاریب اس میں کوئی کلام نہیں کہ مولانا اشرف علی صاب نے بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب سے اکتساب فیض کیا ہے کیونکہ ہر حال احکام اسلام کے درتی درق پر مرزا غلام احمد صاحب کی عبارات موجود ہیں۔ایک اور الزام جو کہ آپ پر لگایا گیا ہے جس میں بھی مولوی خالد محمود صاحب نے بھر پور دجل اور قریب سے کام لیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ نے احکام اسلام کے مقدمے کی تحریر کو جان بوجھ کر چھپا یا ہے جس میں تھانوی صاحب نے کسی مصنف کی کسی تصنیف سے استفادہ کرنے کا اقرار کیا ہے حالانکہ آپ کا یہ اعتراض تو مشروع سے تھا ہی نہیں کیونکہ الفضل" کے مذکورہ مقالے میں یہ جملہ "مولانا اشرف علی صاحب نے کہیں بھول کر بھی ان کے متعلق ساری کتاب میں ذکر نہیں فرمایا کہ کسی مصنف کی تصنیف سے لیے ہیں۔الرشید عن ) موجود نہیں۔ہاں البتہ اس مقالے کی تلخیص او مٹی کو لاہور رسالے میں شائع ہوئی تھی مگر اس میں بھی یہ جملہ اس طرح موجود نہیں بلکہ تھوڑے سے لفظی تغیر کے ساتھ مث لاہور" صہ میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے اور کہیں بھول کر بھی ان کے متعلق ساری کتاب میں ذکر نہیں فرمایا کہ یہ کسی مصنف کی کسی تصنیف سے لیے ہیں۔لفظ کسی کو کسی میں تبدیل کر دینے سے مفہوم