ایک حیرت انگیز انکشاف

by Other Authors

Page 38 of 41

ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 38

WA ” زمانے سے کسی قدر پہلے زمانہ میں حضرت مولانا شاء اللہ جب اللہ البالغہ کھو چکے ہیں اور بہت زیادہ حصہ ان مضامین کا حجتہ البالغہ سے ماخوذ تھا جیسا کہ بعد اخذ کے حجۃ اللہ البالغہ کے دیکھنے سے معلوم ہوا مٹا ) اسی سے مرزا غلام احمد صاب نے مضامین لیے ہوں اور اُسی سے مولانا اشرف علی صاحب نے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیاس بھی محض قیاس ہی ہے کیونکہ فاضل مضمون نگار اپنے اس دعوی کی تائید میں بھی کوئی دلیل پیش نہ کر سکے کہ یہ الہ البالعہ کی علال عبارت مرزا صاحب نے بلا حوالہ اپنی کتاب میں درج کی ہے اس لیے مولوی خالد محمود صاحب کی یہ دلیل بھی متاثر نہ کرسکی۔اس سلسلہ میں دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اشرف علی صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ کا اردو ترجمہ اس کتاب کی تصنیف تک تو دیکھ ہی نہیں تھا کیونکہ وہ احکام اسلام کے مقدمہ میں حجتہ البالغہ کے بارے میں لکھتے ہیں اس مبحث میں ہمارے زمانہ سے کسی قدر پہلے زمانہ میں حضرت شاہ ولی اللہ مصاحب حجة اللہ اب انوکھ چکے ہیں سُنا ہے کہ ترجمہ اس کا بھی ہو چکا ہے۔ز خط کشیدہ جملے سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ اشرف علی صاحب محض سنی سنائی بات کر رہے میں یہ نہیں کہ رہے کہ میں نے وہ ترجمہ دیکھا ہے اور اس میں کبھی وہی عبارات بعینہ موجود ہیں جو کہ میں رطب ویالیس اسے پڑ کتاب سے لے رہا ہوں۔جناب خالد محمود صاحب کا مضمون پڑھکر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ