ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 36
مرزا غلام احمد صاحب کی کتب سے براہ راست یہ مضامین لیے ہیں۔بالکل بے وزن دلیل ہے کیونکہ وہ اسی مضمون میں یہ اعتراف کر بھی چکے ہیں کہ حضرة تھانوی چاہتے تو اس مؤلف پر سرقہ کا الزام بھی لگا سکتے تھے لیکن اونچے درجہ کے بزرگ ان باتوں میں پڑنا مناسب نہیں سمجھتے اگر وہ ایسا کرتے تو پھر بہت ممکن ہے کہ یہ بات نکلتی کہ مرزا غلام احمد نے احکام اسلام کے مصالح عقلیہ اصولاً جن کتابوں سے لیے میں اس نے ان کتابوں کا حوالہ کیوں نہیں دیا ؟ آخر کیوں ہے کیا یہ سب باتیں مرزا غلام احمد کی اپنی طبع زاد ہیں یا اس نے بھی بھی قابل غور ہے۔ناقل ) ہمارے اکابر سے ہی لی ہیں با رماہنامہ الرشید صد ، اس عبارت سے تو اظہر من الشمس کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ مولانا اشرت علی صاحب کو یہ معلوم تھا کہ یہ عبارات مرزا صاحب کی کتب میں موجود ہیں چونکہ احکام اسلام" کے مقدمہ میں وہ اس بات کی کھلی تا شید کر رہے ہیں ، مولانا فرماتے ہیں۔چنانچہ اس وقت بھی ایک ایسی ہی کتاب جس کو کسی صاحب قلم نے لکھا ہے مگر علم وفضل کی ھی کے سب تمام تر رطب و یابس وخت د مین سے پر ہے ایک دوست کی بھیجی ہوئی میرے پاس دیکھنے کی غرض سے آئی ہوئی رکھی ہے۔۔۔۔۔۔احقر نے غائت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین ، کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے لیے ہیں " سے مکمل طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کی کتاب سے مولانا نے مضامین لیے میں یقیناً ان کے