ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 37
نزدیک وہ مرزا صاحب ہی تھے کیونکہ جو مستعار عبارت ان کی کتاب کی زمینیت بنی ہوئی ہیں وہ کسی اور کتاب میں (سوائے مرزا صاحب کی کتب کے ) تو بہر حال موجود نہیں۔اس لیے لاریب اس امر میں تو شک کی گنجائش کہ مولانا اشرف علی صاحب نے مرزا صاحب کی تصنیفات سے کسب نہیں کیا ہے اور مولانا خالد محمود صاحب کا یہ دعوی " لیکن یہ بات کہ حضرت تھانوی نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے لیے ہیں کسی طرح لائق پذیرائی نہیں بالکل بے جان ہو کہ رہ جاتا ہے۔(۲) فاضل مضمون نگار کی دوسری قیاسی دلیل کہ " یہ بھی ممکن ہے کہ اس مصنف نے مرزا صاحب کی کتابوں سے یہ مضامین حوالہ دیئے بغیر لیے ہیں اور احکام اسلام کے موافق معقل ہونے پر اپنے خیالات سے اور مرزا صاحب کے اقتباسات سے ایک نئی کتاب مرتب کر دی ہو اور پھر حضرت تھانوی نے اس کتاب سے یہ مضا مین اپنی اس تالیف میں لے لیے ہوں کا ماہنامہ الرشید صفحه ۲۵ )۔۔۔یہ تو باز دکھی کر ناک پکڑنے والی بات ہے۔(۳) تعمیری دلیل جو مولوی خالد محمود صاحب نے دی ہے اس کی بنیا دکھی اس طرح بنائی ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تصنیف ہے بدل میں یہ منسا مین موجود ہیں (مولانا اشرف علی صاحب تھانوی بھی اپنی کتاب کے مقدمے میں اسی خیال کی تائید ان الفاظ میں کرتے ہیں۔اس مبحث میں ہمارے