احمدیت کا پیغام — Page 26
۲۶ جب خلافت ترکیہ کو ترکوں نے ختم کر دیا تو مصر کے بعض علماء نے بعض راز داروں کے قول کے مطابق شاہ مصر کے اشارہ سے ) ایک تحریک خلافت شروع کی اور اس تحریک سے ان کا منشاء یہ تھا کہ شاہ مصر کو خلیفتہ المسلمین تصور کر لیا جائے اور اس طرح مصر کو دوسرے اسلامی ممالک پر فوقیت حاصل ہو جائے۔سعودی عرب نے اس کی مخالفت شروع کی اور یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ یہ تحریک انگریزوں کی اٹھائی ہوئی ہے اگر کوئی شخص خلافت کا مستحق ہے تو وہ سعودی عرب کا بادشاہ ہے۔جہاں تک خلافت کا تعلق ہے وہ یقیناً ایک ایسا رشتہ ہے جس سے سب مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ خلافت کا لفظ کسی خاص بادشاہ کے ساتھ مخصوص ہونے لگا تو دوسرے بادشاہوں نے فوراً تاڑ لیا کہ ہماری حکومت میں رخنہ ڈالا جاتا ہے اور وہ مفید تحریک بے کار ہو کر رہ گئی لیکن اگر یہی تحریک عوام میں پیدا ہو اور مذہبی روح اس کے پیچھے کام کر رہی ہو تو سیاسی رقابت اس کے رستہ میں حائل نہیں ہوگی ،صرف جماعتی رقابت اس کے رستہ میں روک بنے گی۔سیاسی رقابت کی وجہ سے ایسی تحریک اسی ملک میں محدود ہو کر رہ جائے گی جس کی حکومت اس کی تائید میں ہوگی لیکن جماعتی مخالفت کی صورت میں وہ کسی ملک میں محدود نہیں رہے گی ہر ملک میں جائے گی اور پھیلے گی اور اپنی جڑیں بنائے گی بلکہ ایسے ملکوں بھی میں جا کر کامیاب ہوگی جہاں اسلامی حکومت نہیں ہوگی کیونکہ سیاسی ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں حکومتیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔چنانچہ احمدیت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔احمدیت کا منشاء محض مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا تھا۔وہ بادشاہت کی طالب نہیں تھی ، وہ حکومت کی طالب نہیں تھی۔انگریزوں نے اپنے ملک میں بعض دفعہ احمدیت کو تکلیفیں بھی پہنچائی ہیں لیکن اس کے خالص مذہبی ہونے کی وجہ سے اس سے کھلے