احمدیت کا پیغام — Page 27
۲۷ بندوں ٹکرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔افغانستان میں ملانوں سے ڈر کر بعض دفعہ بادشاہوں نے سختیاں کیں لیکن پرائیویٹ ملاقاتوں میں اپنی معذوریاں بھی ظاہر کرتے رہے اور اظہار ندامت بھی کرتے رہے۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں عوام الناس نے مخالفت کی۔علماء نے مخالفت کی اور اُن سے ڈر کر حکومت نے بھی بعض دفعہ روکیں ڈالیں لیکن کسی حکومت نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ تحریک ہماری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے قائم ہوئی ہے اور یہ ان کا خیال بالکل درست تھا۔احمدیت کو سیاست سے کوئی غرض نہیں، احمدیت صرف اس غرض کے لئے کھڑی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی دینی حالت کو درست کرے اور اُنہیں ایک رشتہ میں پروئے تا کہ وہ مل کر اسلام کے دشمنوں کا اخلاقی اور روحانی ہتھیاروں سے مقابلہ کر سکیں۔اسی بات کو سمجھتے ہوئے امریکہ میں احمدی مبلغ گئے۔جس حد تک وہ ایشیائیوں کی مخالفت کرتے تھے انہوں نے احمدی مبلغوں کی مخالفت کی۔لیکن جہاں تک مذہبی تحریک کا سوال تھا اس کے مدنظر انہوں نے مخالفت نہیں کی۔ڈچ حکومت نے انڈونیشیا میں بھی اسی طریق سے کام لیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ سیاست میں یہ ہمارے ساتھ نہیں ٹکراتے تو گو انہوں نے مخفی نگرانیاں بھی کیں، بے اعتنائیاں بھی کیں مگر کھلے بندوں احمدیت سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اس رویہ میں وہ بالکل حق بجانب تھے۔بہر حال ہم اُن کے مذہب کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اس لئے ہم ان سے کسی ہمدردی کے امید وار نہیں تھے مگر ہم ان کی سیاست سے بھی براہ راست نہیں ٹکراتے تھے۔اس لئے ان کا بھی یہ کوئی حق نہیں تھا کہ ہم سے براہ راست ٹکراتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جماعت احمدیہ قریباً ہر ملک میں قائم ہے۔ہندوستان میں بھی، افغانستان میں بھی ، ایران میں بھی عراق میں بھی ،شام