احمدیت کا پیغام — Page 25
۲۵ ان سارے گروہوں کو اکٹھا کرنے والی ہو اور جب تک ایسی جماعت دنیا میں قائم نہ ہو ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم اس وقت مسلمانوں کو کوئی جماعت نہیں گو حکومت ہے اور سیاست ہے۔اسی طرح متحدہ پروگرام کا سوال ہے جہاں ایسا کوئی نظام نہیں جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے وہاں مسلمانوں کا کوئی متحدہ پروگرام بھی نہیں نہ سیاسی ، نہ تمدنی نہ مذہبی۔منفردانہ طور پر کسی کسی جگہ پر کسی مسلمان کا دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کر لینا یہ اور چیز ہے اور متحدہ طور پر ایک مخصوص نظام کے ماتحت چاروں طرف سے دشمن کے حملہ کا جائزہ لے کر اس کے مقابلہ کی کوشش کرنا یہ الگ بات ہے۔پس پروگرام کے لحاظ سے بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔ایسی صورت میں اگر کوئی جماعت قائم ہو اور مذکورہ بالا دونوں مقاصد کو لے کر قائم ہوا تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک نئی جماعت قائم ہوگئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پہلے کوئی جماعت نہیں تھی اب ایک جماعت بن گئی ہے۔میں ان دوستوں سے جن کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ باوجود ایک نماز، ایک قبلہ ، ایک قرآن اور ایک رسول ہونے کے پھر احمدی جماعت نے الگ جماعت کیوں بنائی، کہتا ہوں کہ وہ اس نکتہ پر غور کریں اور سوچیں کہ اسلام کو پھر ایک جماعت بنانے کا وقت آچکا ہے اس کام کے لئے کب تک انتظار کیا جائے گا؟ مصر کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے۔ایران کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے۔افغانستان کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے۔دیگر اسلامی حکومتیں اپنی اپنی جگہ پر اپنا اپنا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی موجودگی میں بھی ایک خلاء باقی ہے۔ایک کمی باقی ہے اور اسی خلا اور اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے احمد یہ جماعت قائم ہوئی ہے۔