احمدیت کا پیغام — Page 21
۲۱ حیران ہیں کہ جب احمدی دوسرے مسلمانوں کی طرح مسلمان ہیں تو پھر اس نئے فرقہ کو قائم کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ اُن کے نزدیک احمدیوں کا عقیدہ اور احمدیوں کا عمل قابل اعتراض نہیں لیکن اُن کے نزدیک ایک نئی جماعت بنا نا قابل اعتراض امر ہے کیونکہ جب فرق کوئی نہیں تو افتراق کرنے کی وجہ کیا ہوئی اور جب اختلاف نہیں تو دوسری مسجد بنانے کا مقصد کیا ہوا؟ نئی جماعت بنانے کی وجہ اس سوال کا جواب دو طرح دیا جا سکتا ہے۔عقلی طور پر اور روحانی طور پر عقلی طور پر اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جماعت صرف تعداد کا نام نہیں۔ہزار ، لاکھ یا کروڑ افراد کو جماعت نہیں کہتے بلکہ جماعت اُن افراد کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں اور ایک متحدہ پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہوں ایسے افراد اگر پانچ سات بھی ہوں تو جماعت ہے اور جن میں یہ بات نہ ہو وہ کروڑوں بھی جماعت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعوی کیا تو پہلے دن آپ پر صرف چار آدمی ایمان لائے تھے آپ پانچویں تھے ، باوجود پانچ ہونے کے آپ ایک جماعت تھے مگر منہ کی آٹھ دس ہزار کی آبادی جماعت نہیں تھی نہ عرب کی آبادی جماعت تھی۔کیونکہ نہ اُنہوں نے متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور نہ ان کا کوئی متحدہ پروگرام تھا پس اس قسم کا سوال کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اس وقت مسلمان کوئی جماعت ہیں؟ کیا دنیا کے مسلمان تمام معاملات میں آپس میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں یا ان کا کوئی متحدہ پروگرام ہے؟ جہاں تک ہمدردی کا سوال ہے میں مانتا ہوں کہ