احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 20

تھے۔اگر احمدی جماعت کا یہ خیال غلط تھا اور واقعہ میں انگریز شمشیر سے مذہب بدلوانے کی کوشش کر رہے تھے تو پھر یقیناً جہاد واجب تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا جہاد کے واجب ہو جانے کے بعد ہر مسلمان نے تلوار اٹھا کر انگریز کا مقابلہ کیا ؟ اگر نہیں کیا تو احمدی تو خدا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے کہ ہمارے نزدیک ابھی جہاد کا وقت نہیں آیا تھا اگر ہم نے غلطی کی تو ہماری غلطی اجتہادی تھی لیکن ان کے مخالف مولوی کیا جواب دیں گے؟ کیا وہ یہ کہیں گے کہ اے خدا جہاد کا وقت تو تھا اور ہم یقین رکھتے تھے کہ یہ جہاد کا وقت ہے اور ہم سمجھتے تھے کہ جہاد فرض ہو گیا ہے لیکن اے ہمارے خدا ہم نے جہاد نہیں کیا کیونکہ ہمارے دل ڈرتے تھے اور نہ ہم نے ان لوگوں کو جہاد کے لئے آگے بھجوایا جن کے دل نہیں ڈرتے تھے کیونکہ ہم ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے سے بھی انگریز ہم کو پکڑ لیں گے میں یہ فیصلہ مُنصف مزاج لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں جوابوں میں سے کون سا جواب خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہے۔اب تک تو جو کچھ میں نے کہا وہ ان لوگوں کے وساوس کو دور کرنے کے لئے کہا ہے جو احمدیت کا سرسری مطالعہ بھی نہیں رکھتے اور جو احمدیت کے پیغام کو اس کے دشمن سے سنتے یا بغیر احمدیت کا مطالعہ کرنے کے اپنے دلوں سے احمدیت کے عقائد اور احمدیت کی تعلیم بنانا چاہتے ہیں۔اب میں ان لوگوں کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے احمدیت کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہے اور جو جانتے ہیں کہ احمدی خدا تعالیٰ کی توحید پر یقین رکھتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بھی یقین رکھتے ہیں ، قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں ،حدیث کو بھی مانتے ہیں، نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، حج بھی کرتے ہیں، زکوۃ بھی دیتے ہیں، حشر ونشر اور جزا وسزا پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔لیکن وہ