احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 22

۲۲ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمدردی ہے مگر وہ بھی سارے مسلمانوں میں نہیں۔کچھ کے دلوں میں ہے اور کچھ کے دلوں میں نہیں۔اور پھر کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعہ سے اختلاف کو مٹایا جا سکے۔اختلاف تو جماعت میں بھی ہوتا ہے بلکہ نبیوں کے وقت کی جماعت میں بھی ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض دفعہ انصار اور مہاجرین کا اختلاف ہو گیا اور بعض دفعہ بعض دوسرے قبائل میں اختلاف ہو گیا لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تو اس وقت سب اختلاف مٹ گیا۔اسی طرح خلافت کے ایام میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا تھا لیکن جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تو خلفاء فیصلہ کرتے اور وہ اختلاف مٹ جاتا۔خلافت کے ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ستر سال تک مسلمان ایک حکومت کے نیچے رہے۔جہاں جہاں بھی مسلمان تھے وہ ایک نظام کے تابع تھے۔وہ نظام بُرا تھا یا اچھا تھا بہر حال اُس نے مسلمانوں کو ایک رشتہ سے باندھ رکھا تھا۔اس کے بعد اختلاف ہوا اور مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔سپین کا ایک حلقہ بن گیا اور باقی دنیا کا ایک حلقہ بن گیا۔یہ اختلاف تو تھا مگر بہت ہی محدود اختلاف تھا۔دنیا کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ پھر بھی ایک نظام کے نیچے چل رہا تھا مگر تین سو سال گزرنے کے بعد یہ انتظام ایسا ٹوٹا کہ تمام مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا اور ان میں تشئت اور پراگندگی پیدا ہوگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچ فرمایا تھا کہ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ يَفْشُوا الْكَذِبُ سب سے اچھی صدی میری ہے ان سے اتر کر وہ لوگ ہوں گے جو دوسری صدی میں ہوں گے اور ان سے اتر کر وہ لوگ ہوں گے جو تیسری مسلم کتاب الفضائل في فضل الصحابة ثمّ الّذين يلونهم