احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 77 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 77

تعلیمی پاکٹ بک 77 حصہ اول میں عرصہ تک زندہ رہا اور عیسائیوں کی جماعت میں شامل اور شریک رہا اور یہودا اسکر یوطی کا حال بھی معلوم ہے کہ وہ بعد میں مر گیا۔وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا اور اس کو اچھی طرح سے قتل نہیں کیا یعنی جیسا قتل کرنے کا حق تھا و یا قتل نہیں کیا یا یقیناً قتل نہیں کیا۔اور کیونکر وہ یقینا قتل ہو سکتے تھے حالانکہ وہ صرف تخمیناً تین گھنٹے صلیب پر رہے اور وہ موت کے لئے کافی نہیں ہے۔بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔خدا کی طرف جانا یا اُٹھا لیا جانا ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم نے فرمایا: انِي ذَاهِب إلى رَبِّي سَيَهْدِيْنِ - (صفت : 100) اور مہاجروں کی نسبت کہا وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إلى الله - (النساء : 101) یہ بات تعظیم و تشریف و تــفـخـیـم کے طور پر کہی جاتی ہے نہ یہ کہ وہ در حقیقت آسمان کی طرف بادلوں میں اُڑتے ہوئے نظر آئے اور کسی آسمان پر جا بیٹھے۔ان باتوں کی ہمارے ہاں کوئی اصل نہیں ہے بعد میں حضرت عیسیٰ یقیناً مر گئے جس کی خبر قرآن مجید میں دوسری جگہ دی گئی ہے۔إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيْنَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى - (آل عمران : 56 جس کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ پس و پیش کیا ہے بلکہ اس کو بالکل الٹ دیا ہے وہ یوں پڑھتے ہیں: رَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُتَوَفِّيْكَ