احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 76
76 حصہ اوّل تعلیمی پاکٹ بک حشویہ اور عامہ مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں یہ معنی لگائے ہیں کہ حضرت عیسی کی صورت ایک اور شخص پر القاء کی گئی یہ محض ایک سفسطہ ہے ورنہ ہم اپنے مخاطبوں یا مخالفوں کو ایسا ہی سمجھ سکتے ہیں کہ جب ہم ان میں ایک شخص مخصوص کو دیکھیں اور وہ دراصل وہ نہ ہو بلکہ کسی اور کی صورت اس پر القاء ہوئی ہو تو اس سے تو معاملات پر سے اعتبار جاتا رہتا ہے اور نکاح و طلاق اور ملک پر وثوق نہیں رہتا۔اگر ہم شبہ کو سیخ کی طرف مُسند کرتے ہیں جیسا کہ عامہ مفسرین کرتے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ وہ مشبہ بہ ہیں نہ کہ مشتبہ اور اگر اس خیالی اور غیر واقعی شخص کی طرف، جو مقتول ہوا بتلاتے ہیں، مسند کرتے ہیں تو اس کا ذکر کچھ قرآن میں نہیں۔وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتبَاعَ الظَّنِ۔اور جو لوگ اس میں یعنی ان کی صلیبی موت کی نسبت باتیں نکالتے ہیں وہ اس جگہ شبہ میں پڑ جاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ان کو اس کی خبر مگر انکل پر چلنا۔ہم نے دفعہ 16 میں بیان کیا ہے کہ یہ اختلاف کیا تھا۔یعنی ایک تو یہود کا قول کہ ہم نے قتل کیا۔دوسرے عام عیسائیوں کا عقیدہ کہ وہ قتل ہوئے۔تیسرے فرقہ با سالید یاں اور سرن تہیان کا قول کہ ان کی جگہ یوسف شمعون قتل ہوئے تھے چوتھے برنباس کا قول کہ ان کی جگہ یہودا اسکر یوطی قتل ہوا۔ان سب کو قرآن نے فرمایا ہے کہ انکل پر چلتے ہیں۔اس میں سے کسی بات کا ان کو قطعی علم نہیں ہے چنانچہ حضرت مسیح کا صلیب پر نہ مرنا تو ہم نے مقدمات 7-8۔9 میں ثابت کیا ہے اور کسی اور کا اُن کی جگہ مصلوب ہو جانا ایک بے ثبوت بات ہیں اور قرائن اس کے خلاف ہے کیونکہ شمعون قرینی بعد