احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 78 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 78

تعلیمی پاکٹ بک 78 حصہ اوّل مگر اصلی قرآن کی تو یہ عبارت نہیں ہے اگر مفسرین نے کوئی نیا قرآن بنایا ہو تو اس میں ہوگی۔پھر دوسری جگہ اور بھی صاف ہے:۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ - (المائدة : 118) کہ حضرت عیسی جناب باری سے عرض کریں گے جب تو نے مجھے وفات دے دی تب تو اُن پر نگہبان رہا۔ان دونوں آیتوں میں وفات کا ذکر ہے اور یہ موت کی دلیل ہے۔اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا۔(الزمر : 43) پس ان کی وفات کی خبر بہت صاف ہے مگر یہ بات کہ وہ کب مرے اور کہاں مرے معلوم نہیں۔جیسے کہ حضرت مریم کا حال پھر کچھ معلوم نہ ہوا حالانکہ حضرت عیسی نے ان کو یوحنا حواری کے سپرد کیا تھا اور یوحنا حواری صاحب تصنیف بھی تھے پھر بھی کچھ حال ان کا نہیں لکھا اور حضرت مسیح تو دشمنوں سے پوشیدہ دُور کے دیہات میں چلے گئے تھے۔انتخاب مضامین تہذیب الاخلاق جلد سوم صفحہ 211 تا 222 مطبوعہ 1896ء) (4) سرسید احمد خان بانی علی گڑھ یونیورسٹی آپ اپنی تفسیر میں وفات مسیح پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔اب ہم کو قرآن مجید پر غور کرنا چاہئے کہ اس میں کیا لکھا ہے قرآن مجید میں حضرت عیسی کی وفات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے۔۔۔۔۔پہلی تین آیتوں سے حضرت عیسی کا اپنی موت سے وفات پانا علانیہ ظاہر ہے مگر چونکہ علماء اسلام نے بہ تقلید بعض فرق نصاری کے قبل اس کے کہ مطلب قرآن مجید پر غور کریں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسی زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض