احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 50 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 50

تعلیمی پاکٹ بک 50 50 حصہ اول سوم - وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (النساء : 160) اس بات پر نص صریح ہے کہ حضرت مسیح اب اس دنیا میں دوبارہ آکر اہل کتاب کے ان خیالات کو باطل نہیں کریں گے۔بلکہ وہ قیامت کو ہی اُن پر گواہی دیں گے کہ ان کے خیالات باطل تھے۔پس جب حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی اس آیت سے نفی ثابت ہوئی تو ان کی زندگی اور اصالتا آمد خانی کا خیال ہی باطل ثابت ہوا۔چهارم۔مفسرین اس بات سے پریشان ہوئے ہیں کہ بہ کا مرجع مسیح کو کس طرح قرار دیا جائے۔اسکے اصل مرجع واقعہ قتل وصلیب کی طرف ان کا ذہن نہیں پھر اس لئے انہوں نے یہ تاویل کی کہ اہل کتاب کی اس وقت تک جان نہیں نکلتی جب تک فرشتے ان سے یہ اقرار نہیں لے لیتے کہ میں عیسی پر ایمان لایا ہوں مگر وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان یہودیوں کو یہ ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا۔اگر مفسرین کی یہ توجیہ درست مان لی جائے تو پھر بھی موتہ کا مرجع اہل کتاب کے ثابت ہو جانے کے بعد جیسا کہ قراءت ثانیہ سے ظاہر ہے اس آیت سے حضرت مسیح کی حیات جسمانی کا قطعاً استدلال نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں ہر کتابی کے لئے اپنی اپنی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لانا ضروری قرار پایا نہ کہ حضرت مسیح کی موت سے پہلے۔مفسرین کی اس تفسیر پر تلج قلب حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ یہودیوں کا نزع کے وقت ایمان لانا انسانی مشاہدہ سے ثابت نہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا ذکر بے فائدہ ثابت ہوتا ہے جبکہ یہ ایمان فائدہ بخش بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔لیکن اگر به کا مرجع یہودونصاری کے زعم کے مطابق واقعہ قتل و صلیب لیا جائے تو یہ حقیقت مشاہداتی ہے کہ یہودی اور عیسائی دونوں تو میں حضرت مسیح کو مقتول یا مصلوب مانتی ہیں اور عجیب بات ہے کہ دونوں قو میں آپ کو (معاذ اللہ )