احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 51
تعلیمی پاکٹ بک 51 ملعون بھی مانتی ہیں۔یہودی ہمیشہ کے لئے اور عیسائی وقتی طور پر۔حصہ اول اس سے قبل کی آیت قرآنیہ اإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفَوافِيهِ لَفِي شَءٍ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ کی ضمائر کا واقع قبل وصلیب کی طرف پھیر نامسلمات میں سے ہے پس صحیح تفسیر یہ ہے کہ لیو مِنَنَّ بِہ کی ضمیر کا مرجع بھی یہی واقعہ قتل وصلیب قرار دیا جائے گو سیخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر سے قتل وصلیب سے نجات دی یہ تفسیر واقعاتی شہادت سے صحیح ثابت ہوتی ہے اور واقعات ہی بہترین تفسیر ہوتے ہیں۔پس آیت هذا کا ٹکڑا وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔(النساء : 160) بطور اشارة النص حضرت مسیح کی وفات پر ہی دلیل ہے نہ کہ زندگی پر۔لہذا یہ آیت بھی مسیح کی وفات پر ہی دلیل ہے نہ کہ حیات پر اور بَل زَفَعَهُ الله کے بعد حیات مسیح کا ذکر یوں بھی بے محل تھا کیونکہ رفع کا کمال وفات کے بعد ہی ہوتا ہے اور قرآن کریم نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ یہ کمال حضرت عیسی علیہ السلام مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کے اعلان قرآنی سے پہلے حاصل کر چکے ہیں۔۔4 لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ (المائده : 18) يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا۔ترجمہ : ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہے تو کہہ دے کہ کون اللہ سے مقابلہ کی قدرت رکھتا ہے۔اگر وہ ارادہ کرے کہ تباہ و برباد کرے مسیح بن مریم اور اس کی ماں کو اور ان سب کو جوز مین میں بستے ہیں۔اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ مسیح نے ابھی تک وفات نہیں پائی اور وہ بقید حیات ہیں لیکن یہ استدلال بدیں وجہ درست نہیں کہ پھر مریم علیہا السلام کو بھی زندہ اور بقید حیات ماننا پڑے گا حالانکہ کوئی مسلمان بلکہ عیسائی بھی مریم علیہا السلام