احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 34 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 34

تعلیمی پاکٹ بک 34 حصہ اول کسی دوسرے آدمی کا ذکر نہیں صرف حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو قرآن مجید نے ہماری پہلی توجیہ کے لحاظ سے مشتبہ قرار دیا ہے نہ کہ مشتبه به۔قرآن مجید کے پیش کردہ مشتبہ کو مشبہ بہ بنادینا اور وہ بھی ایسے آدمی کو جس کا کوئی ذکر قرآن مجید میں موجود نہیں قرآن مجید کی معنوی تحریف کے مترادف ہے۔قرآن کریم میں جن آیات میں ولکن کے بعد جملہ خبریہ استعمال ہوا ہے ان میں پہلے منفی فعل کو ولکن کے بعد مثبت صورت میں محذوف نہیں مانا جا تا۔ذیل میں تین مثالیں دی جاتی ہیں۔:1 مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُوْرًا نَّهْدِى بِهِ مَنْ نَّشَاءُ (الشورى : 53) اس آیت میں لکن کے بعد جملہ خبریہ مذکور ہے اور اس میں ولکن کے بعد كُنتَ تَدْرِی محذوف نہیں مانا جاتا۔:2 وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنْتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ گفت۔(البقرة : 254) اس آیت میں بھی ولکن کے بعد اِخْتَلَفُوا جملہ فعلیہ خبریہ ہے۔اس لئے وَلكِن کے بعد اقتتل کا فعل محذوف نہیں مانا جا سکتا: : 3 وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ۔حم السجدة (23) اس آیت میں بھی ولکن کے بعد جملہ خبریہ ہے اس لئے ولین کے بعد كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ کو محذوف نہیں قرار دیا جا سکتا: