احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 33 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 33

تعلیمی پاکٹ بک 33 33 مولوی صاحب کی استشہاد میں پیش کردہ مثالیں یہ ہیں۔1 : مَا قامَ زَيْدٌ وَلكِنُ عَمْرُو میں (وَلَكِنُ قَامَ عَمُرُو) حصہ اول 2 : ما كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللہ میں ( وَلَكِنْ كَانَ رَسُولَ اللَّهِ) ان دونوں مثالوں میں واقعی مولوی صاحب کا پیش کردہ قاعدہ جاری ہے کیونکہ پہلی مثال میں عمر و مفرد ہے اور دوسری مثال میں رسول اللہ مرکب اضافی ہے جو خود جملہ نہیں اس لئے پہلی مثال میں فعل قام محذوف ہوگا اور دوسری مثال میں كَانَ فعل محذوف۔لیکن وَلَكِنْ شُيْءَ لَهُمْ میں شُبِّهَ لَهُم جملہ خبر یہ ہے لہذا ان دو مثالوں پر جو قاعدہ چسپاں ہے وہ ولكِن شبه لَهُمْ پر چسپاں نہیں ہوتا۔مولوی صاحب نے تیسری مثال قرآنی آیت مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ الله الكِتَبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا تِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ لَكِنَّ كُونُوا رَبينَ۔(آل عمران : 78) دی ہے اور وَلكِن كُونُوا رَبَّنِيْنَ کی تقدیر عبارت وَلكِنْ يَقُولُ كُونُوا رَبَّانِيِّين لکھی ہے۔اس جگہ بے شک ولکن کے بعد يَقُولُ فعل مقدر ما نا پڑتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ وَلَكِنْ كُوْنُوا رَبَّنِينَ جملہ خبریہ نہیں بلکہ جملہ انشائیہ بصورت امر ہے کہ تم ربانی بن جاؤ۔اس لئے اس سے قبل يَقُولُ فعل کا مقدر مانا ضروری ہے اور یہ جملہ يَقُولُ کا مقولہ بن کر مفعول یہ ہوکر مفرد کے حکم میں ہے اور جملہ خبریہ نہیں۔ماسوا اس کے وَلكِنْ شُبّهَ لَهُمُ کی تقدیر كلام وَلَكِنْ قَتَلُوا وَصَلَبُوا مَنُ شُبِّهَ لَهُمُ اس لئے بھی جائز نہیں کہ اس میں ایک لفظ مَنْ داخل کیا گیا ہے جس کو قَتَلُوا وَصَلَبُوا کا مفعول بنا کر مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ قرآن شریف میں اس جگہ