احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 289
289 حصہ دوم رجوع کا اظہار نہیں کیا اس لئے خدا نے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑا۔اور اخفائے حق کی سزا میں آخری اشتہار سے جو 30 / دسمبر 1895 ء کو شائع ہوا۔سات ماہ کے اندر گرفت الہی میں آ گیا اور 26 جولائی 1896ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہلاک ہو کر عیسائیوں کی شکست کو ظاہر کر گیا۔پیشگوئی پر اعتراضات کے جوابات مولوی غلام جیلانی برق نے اعتراض کیا ہے کہ آتھم اور اسکے فریق نے پیشگوئی کی شرط رجوع الی الحق کو قبول نہیں کیا تھا۔بلکہ وہ اپنے طغیان اور تمر دپر ڈٹے ہوئے تھے۔۔عبداللہ انتم اسلام اور مرزا صاحب کے خلاف مسلسل لکھتا رہا۔اس کی ایک نہایت زہریلی کتاب ” خلاصہ مباحثہ جس میں تثلیت پر پر زور دلائل ہیں اور توحید کا مضحکہ اُڑایا گیا ہے اور جناب مرزا صاحب پر بے پناہ پھبتیاں کسی گئی ہیں۔اسی زمانے پندرہ ماہ کی تصنیف ہے۔ہم نے جناب برق صاحب سے خط و کتاب کی جسکی تفصیل میری کتاب تحقیق عارفانہ صفحہ 465 تا صفحہ 467 تک میں درج ہے۔جناب برق صاحب عبداللہ آم کی طرف سے ” خلاصہ مباحثہ “ لکھا جانے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔وہ تو میعاد کے اندر سرگرداں و سراسیمہ تھا۔اور دن رات روتا رہتا تھا۔اسکی حالت نیم دیوانہ کے مشابہ تھی اور اسکی قوت متخیلہ میں اُسے ایسے حملہ آور دکھائی دیتے تھے جن کا ذکر کرنے پر عیسائیوں نے اُسے حضرت مرزا صاحب پر نالش کرنے کو کہا اور یہاں تک پیشکش کی کہ تم صرف کاغذ پر دستخط ہی کر دو مقدمہ ہم دائر کریں گے۔مگر وہ آمادہ نہ ہوا۔بھلا اس سراسیمگی کی حالت میں وہ خلاصہ مباحثہ کیسے لکھ سکتا تھا۔ہماری نظر سے کوئی ایسا رسالہ نہیں گذرا۔اگر عبداللہ آتھم نے ایسا کوئی رسالہ ان ایام میں لکھا ہوتا تو وہ اسے قسم کھانے کی دعوت کے مقابلہ میں بطور