احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 290 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 290

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 290 حصہ دوم وجہ شہادت پیش کرتے کہ دیکھو میں نے کوئی رجوع نہیں کیا اور ان کو ضرورت نہ تھی کہ کچے عذرات سے قسم کو ٹال دیتے۔دبی زبان سے تو اُس نے رجوع کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔چنانچہ وہ نورافشاں‘ 21 ستمبر 1894ء میں حضرت اقدس کے ذکر میں لکھتا ہے:۔میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت اور الوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ بیہودگی کی“۔جب وہ عیسائیوں کے ساتھ ساتھ عقیدہ تثلیث میں متفق نہ رہے تو پیشگوئی کی میعاد میں وہ تثلیث پر پُر زور دلائل کیسے لکھ سکتے تھے۔اور جب وہ عیسائیوں کی بیہودگی کو نا پسند کرتا تھا تو وہ حضرت مرزا صاحب پر پھبتیاں کیسے کس سکتے تھے۔برق صاحب نے حرف محرمانہ صفحہ 271 پر تسلیم کیا ہے کہ رجوع الی الحق کا مفہوم ایک ہی ہو سکتا ہے یعنی تثلیث سے تائب ہوکر تو حید قبول کرنا۔جب آٹھم صاحب نے عام عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے رجوع کر لیا جس کا خود انہوں نے اعتراف کیا ہے تو انکا ایسا کرنا تو حید کے عقیدہ کو مستلزم ہے۔اعتراض دوم حضرت مرزا صاحب نے کشتی نوح صفحہ 6 پر لکھا ہے:۔مرے گا۔پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے نیز تحفہ گولڑویہ میں لکھا ہے: میں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمیوں کے رو برو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔سو آتھم اپنی