احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 264
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 264 حصہ دوم اس سے ظاہر ہے کہ اس الہام نے تصدیق بھی کر دی تھی کہ نکاح ضرور ہوگا۔مگر پھر کیوں نکاح وقوع میں نہ آیا ؟ الجواب۔مقصود اس الہام سے صرف یہ ہے کہ پیشگوئی کا الہ تعالی کی طرف سے ہونا برحق امر ہے مشکوک نہیں۔لہذا آپ کو چاہیے کہ نفس پیشگوئی میں جو مشروط بھی تھی شک نہیں کرنا چاہیے۔اس الہام سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہ تھا کہ پیشگوئی کا ظہور کس رنگ میں ہوگا۔کیونکہ ازالہ اوہام 1891 ء کی کتاب ہے۔اس کے بعد احمد بیگ ہلاک ہو گیا۔اور پیشگوئی کے اس حصہ کا برحق ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا۔دوسرا حصہ الها می شرط کو پورا کیا جانے کی وجہ سے پیشگوئیوں کے اصول کے مطابق مل گیا۔مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کی موت کی میعاد میں اختلاف کی حکمت آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 573 پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مرزا احمد بیگ کو مخاطب کر کے لکھا ہے آخر المصائب موتک فتموت بعد النكاح الى ثلاث سنین بل موتک قریب“۔کہ آخری مصیبت تیری موت ہے اور تو نکاح کے بعد تین سال بلکہ اس سے قریب مدت میں مرجائے گا۔اور اسی جگہ محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند کے لئے اڑھائی سال کی مدت بیان کی گئی ہے۔واقعات کے لحاظ سے موتک قریب کا الہام یوں پورا ہوا کہ مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح سلطان محمد سے کرنے کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں ہی ہلاک ہو گیا۔یہ نتیجہ تھا اس کی بیبا کی اور شوخی میں بڑھ جانے کا۔ورنہ ممکن تھا کہ اس کا داماد پہلے مرجاتا نیز اس میں اشارہ تھا کہ اگر مرزا احمد بیگ کی موت اپنے داماد سے پہلے