احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 263
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 263 حصہ دوم میں یا بیوہ کر کے اور ہر یک روک کو درمیان سے اُٹھا دے گا۔اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 305) تو ایسا لکھنے کے باوجود کیوں درمیانی روکیں اٹھائی نہ گئیں۔باکرہ ہونے کی حالت میں اس وجہ سے نکاح میں نہ آئی کہ اس کے باپ نے شوخی کی راہ اختیار کر کے اپنی بیٹی کا نکاح مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے کر دیا اور پیشگوئی کے مطابق یہ سزا پائی کہ چھ مہینے کے اندر ہلاک ہو گیا۔اس سے محمدی بیگم کے خاوند پر پیشگوئی کی ہیبت طاری ہوگئی اور اس نے تو بہ اور استغفار سے کام لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اپنی اس تو بہ پر قائم رہا اس لئے اس کے شرط تو بہ سے فائدہ اٹھانے کی وجہ سے نکاح والا حصہ منسوخ ہو گیا۔یہ حضرت مسیح موعود کا اجتہاد تھا کہ سب روکیں اٹھادی جائیں گی نہ کہ الہام۔اعتراض دوم مرزا صاحب اسی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ:۔اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔اس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہور ہا تھا کہ اب آخری دم ہے کل جنازہ نکلنے والا ہے۔تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ۔یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 306)