احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 4 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 4

تعلیمی پاکٹ بک 4 حصہ اول تک ہی ) جب تک میں اُن میں موجود رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی اُن پر نگران تھا اور تو ہر چیز پرنگران ہے۔استدلال:- : 1 قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کے جواب كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ سے ظاہر ہے کہ وہ جب تک اپنی قوم میں موجود رہے ان کی قوم نہیں بگڑی تھی کیونکہ اس وقت وہ اُن پر نگران تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تَوَفَّی کرلی تو پھر قیامت تک خدا ہی ان کی قوم کا نگران تھا حضرت عیسی علیہ السلام نے اس کے بعد ان کی نگرانی نہیں کی۔اس بیان سے واضح ہے کہ ان کی قوم سے علیحدگی جب توفی کے ذریعہ ہوگئی تو تَوَفی کے بعد وہ قوم میں دوبارہ نہیں آئے ہوں گے بلکہ وہ قیامت تک قوم کے بارہ میں کوئی مشاہداتی علم نہیں رکھتے ہوں گے۔2 : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنی ہیں جب تو نے مجھے وفات دے دی۔تَوَفَّيْتَنِی کے معنی محاورہ عرب کے علاوہ سیاق کلام کے لحاظ سے بھی پورا پورا لینا بمع رُوح و جسم لے کر آسمان پر اٹھا لینا درست نہیں کیونکہ توفی کے بعد اُن کے دوبارہ قوم میں آنے کی كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ میں نفی کر دی گئی ہے پس زندہ اٹھا لینے کا جو یہ مقصد خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ اصالتا قوم میں آئیں گے۔اس کی كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهم میں تردید موجود ہے کیونکہ اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ پھر مجھے قوم کی نگرانی کا موقع نہیں ملا بلکہ اے خدا! پھر تو ہی ان کا نگران تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ سے اِشَارَةُ النَّص کے طور پر یہ امر ثابت ہے کہ توفی کے بعد وہ پھر قوم میں نہیں گئے۔پس ان کا قوم میں دوبارہ آنا