احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 395
395 حصہ دوم 24 فروری 1898 ء میں گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک عرضی بھیجی تھی۔جس میں اپنی جماعت کے متعلق لکھا:۔غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مور د مراحم گورنمنٹ ہیں یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں۔ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں“۔( تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 18 مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 197) واضح ہو کہ اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ان لوگوں کا بھی جو گورنمنٹ کے ملازم ہیں اور نیک نام ہیں نیز آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔اور ان کا بھی جو آپ کے اقارب یا خاندان میں سے ہیں اور اس کے بعد اپنی جماعت کے وعظوں کا۔خود کاشتہ پودا اس کے ایک صفحہ بعد آپ نے حاسدین گورنمنٹ کی جھوٹی مخبر یوں کا ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا:۔صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان شار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معز زحکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سر کا رانگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لئے۔(اشتہار 24 رفروری1898ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ 19 مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 198 )