احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 303
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 303 حصہ دوم سے کچھ نیچے اوپر ہے۔جس کے سب زینے غالباً آپ طے کر چکے ہیں۔اہلحدیث 3 مئی 1907 ء صفحہ 6 کالم نمبر 2) اس کے ایک سال بعد حضور کی وفات ہوئی۔الہامات مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح (1) أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ - (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 47) اس الہام کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں“۔معترضین کی طرف سے اس الہام کا یہ ترجمہ کہ تو میرا بیٹا ہے اور میں تیرا بیٹا ہوں“۔خود ہم کے منشاء اور محاورات زبان عربی کے خلاف ہے۔ملہم نے اس کی تشریح میں لکھا ہے:۔اس (الہام) کا پہلا حصہ تو بالکل صاف ہے کہ تو جو ظاہر ہوا یہ میرے فضل اور کرم کا نتیجہ ہے۔اور جس انسان کو خدا تعالیٰ مامور کر کے دنیا میں بھیجتا ہے۔اُس کو اپنی مرضی اور حکم سے مامور کر کے بھیجتا ہے۔جیسے حکام کا بھی یہ دستور اور قائدہ ہے۔اب اس الہام میں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے أنا منک اس کا یہ مطلب اور منشاء ہے کہ میری توحید، میرا جلال اور میری عزت کا ظہور تیرے ذریعہ سے ہوگا۔اخبار الحکم جلد 6 نمبر 40 صفحہ 15 کالم نمبر 1 ،2) ملہم کی اس تشریح سے ظاہر ہے کہ اس الہام میں مقام مظہر بیت بیان ہوا ہے جو اتحاد فی المقاصد پر دلالت کرتا ہے عربی محاورہ کے لحاظ سے یہاں ”من“ اتصالیہ ہے۔احادیث نبویہ میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی شان