احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 231 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 231

231 حصہ دوم ندی تعلیمی پاکٹ بک پھر آگے بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اُٹھو قربانی دو۔پھر سر منڈواؤ ( یعنی احرام کھول دو) راوی کہتا ہے۔فَوَ اللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔کہ خدا کی قسم کوئی صحابہ سے نہ اُٹھا یہانتک کہ آپ نے تین دفعہ یہ حکم دیا۔جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ حضرت اُم سلمہ اپنی زوجہ ) کے پاس گئے اور لوگوں کے اس معاملہ کا ذکر کیا۔اُم سلمہ نے کہا۔اے نبی اللہ کیا آپ ایسا چاہتے ہیں؟ آپ ان میں سے کسی سے ایک کلمہ بھی نہ کہیے۔اپنی قربانی دیکھیئے۔پھر سر مونڈنے والے کو بلائیے کہ وہ آپ کا سرمونڈ دے۔آپ نے ایسا ہی کیا۔باہر نکلے۔کسی سے کلام نہ کی۔اپنی قربانی دی اور سرمنڈ ایا۔جب صحابہ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اُٹھے اور انہوں نے قربانیاں دیں اور بعض بعض کا سر مونڈنے لگے۔حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمُ يَقْتُلُ بَعْضًا عَمَّا کہ قریب تھا کہ غم کے مارے(یعنی بدحواسی میں) ایک دوسرے کو قتل کر دیں ( کیونکہ ان کے دل ان شرائط کی وجہ سے مغموم تھے ) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رویال کے بعد عمرہ کے لئے چلے جانا محض اپنے اجتہاد کی بناء پر تھا۔آپ نے تعبیر یہی خیال کی تھی کہ عمرہ امن سے ہو جائے گا۔گو اس سال تو عمرہ نہ ہو سکا مگر یہ اجتہادی سفر بھی ایک لطیف حکمت کا حامل ثابت ہوا۔گو اس سال طواف و زیارت کعبہ تو نہ ہو سکی مگر لے یہ رویا طواف کعبہ کے متعلق تھی۔اس کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے سال اس کے پورا ہونے کی شرط سے اطلاع نہیں دی گئی تھی ہاں اللہ تعالیٰ کے مدنظر یہی تھا کہ صلح واقعہ ہو جانے کے بعد اگلے سال یہ رویا پوری ہوگی۔اس شرط پر اطلاع نہ دیا جانے کی وجہ سے ہی لوگوں کو ابتلا پیش آیا۔اس سے ظاہر ہے بعض اوقات وعدہ عند اللہ مشروط ہوتا ہے مگر ماہم کو خاص مصلحت کے ماتحت شرط سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔