احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 232 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 232

232 حصہ دوم مشرکوں سے صلح کا معاہدہ ہو گیا جس کے نتیجہ میں بالآخر مشرکین کے خود معاہدہ کی شرائط تو ڑ دینے پر یہ معاہدہ فتح مکہ پر منتج ہوا۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ (الفتح: 28) کہ خدا تعالیٰ نے رسول کو جور و یا دکھائی تھی اسے سچا کر دکھایا ہے کہ تم ضرور مسجد حرام میں امن سے داخل ہو گے۔اپنے سر منڈاتے ہوئے یا تراشتے ہوئے اور کسی سے نہ ڈرتے ہوئے فَعَلِمَ مَالَمْ تَعْلَمُوا۔اللہ تو اس سے وہ کچھ جانتا تھا ( یعنی وقت میں تاخیر کی مصلحت ) جو تمہارے علم میں نہ تھا تو خدا تعالیٰ نے قریب ہی کے زمانہ میں فتح دے دی۔پس نبی کی اجتہادی خطا میں بھی بعض اوقات خدا تعالیٰ کی کوئی لطیف حکمت ہوتی ہے۔گو اس اجتہادی خطا کے نتیجہ سے مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی سخت دھکا لگا تھا۔مگر آخر خدا کی حکمت ظاہر ہوئی اور اس کے رسول کی بات بھی پوری ہوئی اور اس صلح کے نتیجہ میں جو مسلمانوں کا دل توڑ رہی تھی خدا تعالیٰ نے مکہ فتح کرا دیا۔چونکہ یہ وعدہ کی پیشگوئی تھی اس لئے ٹل نہیں سکتی تھی۔صلح حدیبیہ کے متعلق مفسرین کے اقوال (1) امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ تفسیر جلالین تفسیر سورة الفتح صفحه 424 میں سورۃ فتح کے شان نزول میں لکھتے ہیں:۔رأى رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عليهِ وسَلَّم فِي النَّومِ عَامَ الحديبية قَبْلَ خُرُوجِهِ أَنَّهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ هُوَ وَاَصْحَابُهُ آمِنِيْنَ يُحَلَّقُونَ وَيُقَصِرُونَ فَاَخْبَرَ بِذلِكَ الصَّحَابَةَ فَفَرِحُوا فَلَمَّا خَرَجُوا مَعَهُ وَصَدَّهُمُ الْكُفَّارُ بِالحُدَيْبِيَّةِ رَجَعُوا وَشَقَّ عَلَيْهِمْ