احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 230
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 230 حصہ دوم پھر اُن کی یہ گفتگو صحیح بخاری کتاب الشـــروط بـاب الـشـرط في الجهاد والمصالحة جلد 2 صفحہ 81 مطبوعہ مصر میں یوں درج ہے:۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا۔اَلَسْتَ نِبيَّ اللهِ حَقًّا۔کیا آپ نیچے نبی نہیں ؟ آپ نے فرمایا بلی۔ہاں میں سچا نبی ہوں۔پھر کہا کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟۔آپ نے فرمایا۔ہاں ( یعنی ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر ہے ) میں نے کہا فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِيَّةَ فِی دِینِنَا إِذَا کہ پھر ہم اپنے دین میں کیوں کمزوری دکھائیں (یعنی کیوں دب کر صلح کریں )۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی کرنے والا نہیں وہ میر امددگار ہے۔میں نے کہا اَوَلَيْسَ كُنتَ تُحَدِّثُنَا إِنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفَ - کہ آپ ہم سے بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں تو کیا میں تمہیں یہ خبر دیتا تھا کہ ہم اسی سال ہی آئیں گے؟ میں نے کہا نہیں۔تو آپ نے فرمایا تم بیت اللہ میں آنے والے ہو۔اور اس کا طواف کرنے والے ہو۔اس کے بعد اسی مضمون کی گفتگو حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے بھی کی اور انہوں نے ایسے ہی جوابات دیئے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے تھے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں اس گفتگو کے بعد مجھے کئی اعمال کرنے پڑے۔(یعنی کفارہ ادا کرنا پڑا) زاد المعاد میں امام ابن قیم یہ روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا:۔مَا شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ - (زادالمعاد جلد اوّل صفحہ 376) کہ میں جب مسلمان ہوا مجھے صرف اسی دن شک پیدا ہوا۔“