احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 108 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 108

108 حصہ اوّل تعلیمی پاکٹ بک لغوی معنی میں بھی خاتم النبین نظر آتے ہیں جنہیں مولانامحمد قاسم خاتمیت مرتبی قرار دیتے ہیں اور خاتمیت زمانی کے معنی بھی خاتمیت مرتبی کو لازم دکھائی دیتے ہیں۔آیت قرآنی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة:4) سے ظاہر ہے کہ اسلام ایک کامل شریعت ہے اور پھر شریعت قرآنیہ کے متعلق فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔(الحجر: 10) کہ بے شک ہم نے ہی ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔پس قرآنی شریعت کامل بھی ہے اور تا قیامت محفوظ بھی لہذا کوئی نئی شریعت لانے والا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا۔آپ آخری شارع نبی ہیں اور یہ خاتمیت زمانی کے مفہوم کا پہلو ہے جو خاتم النبیین کے حقیقی معنی (نبیوں کیلئے مؤثر وجود ) کولازم ہے۔خاتم النبین کے حقیقی معنی از روئے قرآن کریم: 1 : سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے دُعا سکھائی ہے: اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ترجمہ: ہمیں سیدھی راہ پر چلا۔ان لوگوں کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا نہ اُن کی راہ پر جن پر غضب نازل کیا گیا اور نہ گمراہوں کی راہ پر۔استدلال:- اس آیت میں مَغضُوبِ عَلَيْهِمُ اور اَلضَّالِّين کے رستے سے بچنے کی دُعا سکھائی گئی ہے تا کہ ہم مغضوب اور ضال نہ بن جائیں اور انعام یافتہ لوگوں کے رستے پر چلنے کی دعا سکھائی گئی ہے تا کہ ہم بھی انعام یافتہ بن جائیں۔