احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 107 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 107

تعلیمی پاکٹ بک 107 بلحاظ سیاق آیت خاتم النبین تحریر فرماتے ہیں : حصہ اول خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رُو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا اُن کو بخشا جاتا ہے جیسا کہ وہ جــل شــانــه قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِینَ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔اب ظاہر ہے کہ لکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدراک مافات کے لئے۔سواس آیت کے پہلے حصے میں جوا مرفوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا سولکین کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہِ راست فیوضِ نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اُسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مُہر رکھتا ہوگا۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 214،213) آیات قرآنیہ خاتم النبیین کی تفسیر میں قرآن مجید کی یہ شان ہے کہ وہ اپنی تفسیر آپ کرتا ہے لہذا جب آیت خاتم النبین کی تفسیر آیات قرآنیہ سے تلاش کی جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی