احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 518 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 518

518 حصہ دوم ان آیات سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ہر گز آسمان پر نہیں گیا بلکہ قبر سے نکل کر جلیل کی طرف گیا اور معمولی جسم اور معمولی کپڑوں میں انسانوں کی طرح تھا اگر وہ مر کر زندہ ہوتا تو کیونکر ممکن تھا کہ جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے“۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔حضرت مسیح علیہ السلام کا شاگردوں کو کشفی طور پر ملنا تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنی جسمانی زندگی میں ملنا ثابت کرتے ہیں۔چنانچہ اس بات پر کہ مسیح مرکر جی اُٹھا اور یہ معجزہ سرزد ہوا حضور تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔” کیوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا اس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اس کے ظاہر کرنے سے منع کیا۔اگر یہ کہو کہ اس کو پکڑے جانے کا خوف تھا تو میں کہتا ہوں کہ جب ایک دفعہ خدائے تعالیٰ کی تقدیر اس پر وارد ہو چکی اور وہ مرکز پھر جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہو چکا تو اب اس کو یہودیوں کا کیا خوف تھا۔کیونکہ اب یہودی کسی طرح بھی اس پر قدرت نہیں پاسکتے تھے۔اب تو وہ فانی زندگی سے ترقی پا چکا تھا۔افسوس ہے کہ ایک طرف تو اس کا جلالی جسم سے زندہ ہونا اور حواریوں کو ملنا اور جلیل کی طرف جانا اور پھر آسمان پر اٹھائے جانا بیان کیا گیا ہے اور پھر بات بات میں اس جلالی جسم کے ساتھ بھی یہودیوں کا خوف ہے اس ملک سے پوشیدہ طور پر بھاگتا ہے کہ تا کوئی یہودی دیکھ نہ لے اور جان بچانے کے لئے ستر کوس کا سفرجلیل کی طرف کرتا ہے۔بار بارمنع کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی کے ساتھ بیان نہ کرو۔کیا یہ جلالی جسم کے پچھن اور علامتیں ہیں؟ نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی جلالی اور نیا جسم نہ تھا وہی زخم آلودہ