احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 517 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 517

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 517 حصہ دوم کلیل میں فوت ہوکر دفن ہونا اور پھر چالیس دن تک کشفی طور پر ملتے رہنا ثابت نہیں۔بلکہ اس کے قبول کرنے میں آپ کے نزدیک بڑی دقتیں ہیں۔کشمیر میں حضرت مسیح کا جانا اور وفات پانا آپ کے نزدیک محقق امر ہے۔چنانچہ آپ اسی ست بچن میں تحریر فرماتے ہیں:۔ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلا دشام میں ( مراد گلیل۔ناقل ) قبر ہے۔مگراب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے“۔ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 307 حاشیہ ) پھر راز حقیقت روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 172 پر تحریر فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے۔۔۔اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جوسری نگر میں محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے وہ در حقیقت بلا شک وشبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔حضرت مسیح کا حواریوں کو جسمانی زندگی کے ساتھ ملنا "مسیح ہندوستان میں“ روحانی خزائن جلد 15 صفحه 21-22 پر مذکور ہے۔اس جگہ لکھا ہے:۔مسیح قبر سے نکل کر گلیل کی طرف گیا۔آخر ان گیاراں حواریوں کو ملا جب کہ وہ کھانا کھارہے تھے اور اپنے ہاتھ اور پاؤں جو زخمی تھے دکھائے۔انہوں نے گمان کیا کہ شاید یہ رُوح ہے تب اس نے کہا مجھے چھوڑ اور دیکھو کیونکہ رُوح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو ان سے ایک بھنی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا اور شہد کا ایک چھتا لیا اور ان کے سامنے کھایا۔دیکھو مرقس باب 16 آیت 14 اور لوقا باب 24 آیت 39 اور 40 اور 41 اور 42۔