احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 489 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 489

489 حصہ دوم ندی تعلیمی پاکٹ بک ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے تجویز کردہ فیصلہ کو کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو“۔قبول نہیں کیا تھا اور اُسے بے نتیجہ قرار دیا تھا۔اور مضمون کے شروع میں اہلحدیث کے صفحہ 3 پر صاف لکھا تھا:۔کرشن جی نے خاکسار کو مباہلہ کے لئے بلایا۔جس کا جواب اہلحدیث 19 را پریل میں مفصل دیا گیا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں حسب اقرار خود تمہارے کذب پر حلف اُٹھانے کو تیار ہوں بشرطیکہ تم یہ پہلے بتلا دو کہ اس حلف کا نتیجہ کیا ہوگا۔اس کے جواب میں کرشن جی نے ایک اشتہار دیا جو بقول شخصے سوال از آسماں جواب از یسماں۔پھر اس پر طرہ یہ کہ اس اشتہار کو اہلحدیث میں درج کرنے کی ہم سے درخواست کی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ اس اشتہار سے پہلے فریقین میں مباہلہ کی گفتگو جاری تھی۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ یعنی بالمقابل بددعا سے گریز کر رہے تھے اور صرف حلف اُٹھانے کو تیار ہورہے تھے۔اور جب پندرہ اپریل کا خط انہوں نے 26 اپریل 1907 ء کے اہلحدیث میں شائع کیا تو بددعا کے ذریعہ طریق فیصلہ کو فیصلہ کن نہ جانا اور اس کی منظوری نہ دی۔خط کا عنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ چاہتے تھے کہ مولوی صاحب اس کا جواب دیں تا کہ باہمی فیصلہ ہو۔چونکہ مولوی صاحب نے اس کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔اس لئے اب اس خط کو فیصلہ کن قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ اگر اس کے مطابق فیصلہ ہو اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی وفات پہلے ہو جاتی تو ان کی ہوا خواہ فورا یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے مولوی صاحب نے تو اس طریق فیصلہ کو مانا ہی نہیں۔لہذا یہ ہم پر کیسے حجت ہو سکتا ہے۔اہلحدیث