احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 490 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 490

احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 490 حصہ دوم کے نائب ایڈیٹر نے خط کا مضمون پڑھ کر بعض قرآنی آیت پیش کر کے لکھا:۔” خدا تعالیٰ جھوٹے ، دغا باز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمر میں دیا کرتا ہے۔تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔اہلحدیث 26 اپریل 1907 ، صفحہ 4 حاشیہ) نائب ایڈیٹر کی یہ تحریر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کو فیصلہ کن قرار دینے سے انکار پر مشتمل ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ تحریر مسلم ہے۔پس جب دوسرے فریق نے اس طریق فیصلہ کو مانا ہی نہیں بلکہ اس کو رڈ کر دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّر “ کے مطابق وفات دے کر اپنے حضور بلالیا اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو ان کے نائب ایڈیٹر کے پیش کردہ مضمون کے مطابق مہلت دے دی۔عجیب بات ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں یہ طریق فیصلہ کن نہیں تھا۔لیکن جب آپ کی وفات اپنے الہامات کے مطابق وقوع میں آگئی۔تو اب مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک 15 اپریل 1907 ء والا خطبہ فیصلہ کن بن گیا۔حالانکہ وہ پہلے لکھ چکے تھے کہ :۔ا سے کوئی دانا منظور نہیں کر سکتا۔اب یہ فیصلہ کرنا سلیم الفطرت اصحاب پر منحصر ہے کہ مولوی صاحب کی پہلی تحریریں دانائی پر مشتمل تھیں یا بعد کی تحریریں دانائی پر مشتمل ہیں ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی نا منظوری کی وجہ سے یہ تحریر فیصلہ کن نہیں رہی تھی۔اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات آپ کی دوسری پیشگوئیوں کے مطابق ہوئی ہے۔اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھ دیا تھا