احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 488 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 488

احمد یتعلیمی پاکٹ بک 488 حصہ دوم خط کے آخر میں لکھا گیا تھا کہ ”مولوی ثناء اللہ صاحب جو چاہیں اسکے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔مراد یہ تھی کہ منظور کر لیں۔تو مباہلہ کی سنت کے مطابق خدا تعالیٰ فیصلہ فرمادے گا۔میں لکھا:۔اس خط کو اپنے اخبار میں چھاپنے کے بعد مولوی صاحب نے اپنے جواب ا۔اس دُعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا“۔۲۔یہ کہ اس مضمون کو بطور الہام کے شائع نہیں کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دُعا کے طور پر ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر تم مر گئے تو تمہارے دام افتادہ خس کم جہاں پاک“ کہہ کر یہ عذر دیں گے کہ حضرت صاحب کا یہ الہام نہیں تھا بلکہ محض دعا تھی۔یہ بھی کہہ دیں گے کہ دعا ئیں تو بہت سے نبیوں کی بھی قبول نہیں ہوتیں۔دیکھو حضرت نوح کی دعا قبول نہ ہوئی“۔یہ کہ میرا مقابلہ تو آپ سے ہے۔اگر میں مرگیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے۔جب کہ (بقول آپ کے ) مولوی غلام دستگیر قصوری مرحوم مولوی اسماعیل علیگڑھی مرحوم اور ڈاکٹر ڈوئی امریکن اسی طرح سے مرگئے ہیں تو کیا لوگوں نے آپ کو سچا مان لیا ہے ٹھیک اسی طرح اگر یہ واقعہ بھی ہو گیا تو کیا نتیجہ۔اسی مضمون میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے آخر میں یہ بھی لکھا:۔مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اُٹھانے کو تیار دو ہوں اگر تم اس حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو۔اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔