احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 29 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 29

تعلیمی پاکٹ بک 29 29 حصہ اوّل مقتول اور مصلوب کے مشابہ کئے گئے ہیں یعنی یہودیوں نے غلطی سے سمجھ لیا ہے کہ وہ مار ڈالے گئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی موت واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ یہودیوں کے لئے بوجہ نشی ، مُردہ کے مشابہ دکھائی دیئے اور ان کی غشی سے انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ اُن کی موت واقع ہو گئی ہے اور پھر وہ ان کے مار ڈالنے کو یقین کے ساتھ بیان کرنے لگ گئے۔واضح ہو کہ شبه لهم جملہ فعلیہ خبر یہ ہے کہ اس میں شبہ فعل ماضی مجہول ہے جس کا اسناد سیاق کلام کے لحاظ سے یا مسیح کی طرف ہو سکتا ہے۔یاقتل وصاب کے معاملہ کی طرف یعنی شبہ کی ضمیر واحد غائب مستتر یا حضرت مسیح کی طرف پھرتی ہے یا واقعہ قتل کی طرف تیسرا کوئی امر یا شخص مذکور نہیں جو اس ضمیر کا مرجع بن سکے۔دونوں صورتوں کا مال یہ ہے کہ حضرت عیسی کے قتل کا معاملہ یہود پر مشتبہ ہو گیا۔پہلی صورت میں تقدیر کلام وَلكِنْ شُبِّهَ الْمَسِيحُ لَهُمْ ہوگی۔اور اس صورت میں مسیح مشتبہ ہوگا اور مطلق مقتول و مصلوب نہ کہ کوئی معین مقتول ومصلوب مشبہ بہ اور دوسری صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی شُبِّهَ اَمْرُ الْقَتْلِ وَالصُّلْبِ لَهُمُ کر قتل کئے جانے اور صلیب دیئے جانے کا معاملہ یہود پر مشتبہ ہوگیا اور انہوں نے غیر مقتول اور غیر مصلوب کے مقتول ومصلوب ہونے کا گمان کر لیا۔ایک غلط توجیه : بعض مفسرین جن میں مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوئی بھی شامل ہیں یہ توجیہ کی ہے کہ شبعَ لَهُمْ کے یہ معنی ہیں کہ کوئی اور آدمی مسیح کا ہم شکل اور مشابہ بنا دیا گیا اور اسے مقتول و مصلوب کر دیا گیا اور حضرت عیسی کو خدا نے زندہ آسمان پر اٹھالیا۔اس تفسیر کے درست ہونے کے متعلق ان کی دلیل یہ ہے کہ ولکن سے پہلے