احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 28
فلیمی پاکٹ بک 88 28 لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔(النساء : 158 تا 160) حصہ اول ترجمہ: اور ان کے اس قول کے سبب (انہیں سزا ملی ) کہ یقینا ہم نے قتل کر دیا ہے مسیح عیسی بن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ نہ انہوں نے اُسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر لٹکا کے مارا بلکہ وہ ان کے لئے مقتول ومصلوب کے مشابہ بنایا گیا اور جن لوگوں نے اس معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ ضرور اس معاملہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔انہیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں بجز وہم کی پیروی کے اور انہوں نے اسے یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنے حضور رفعت دی ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہیں مگر وہ اس واقعہ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا رہے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا۔تفسیر : یہودیوں نے یہ کہا تھا کہ بے شک ہم نے مسیح عیسی بن مریم رسول اللہ کوقتل کر دیا ہے یہ فقرہ ان کا بطور طنز و تحقیر کے تھا کیونکہ وہ عیسی بن مریم کو نہ مسیح مانتے تھے نہ رسول اللہ بلکہ اُن کی مراد یہ تھی کہ عیسی بن مریم جو مسیح اور رسول اللہ بنا بیٹھا تھا۔اسے ہم نے مار ڈالا ہے کیونکہ وہ (معاذ اللہ ) مفتری تھا اور تورات میں نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔(استثناء باب 13 آیت 5) بعض یہودی یہ کہتے تھے کہ میچ کو سنگسار کر کے بعد میں صلیب پر لٹکایا گیا اور بعض یہ کہتے تھے کہ میسیج کو صلیب پر لٹکا کر مار دیا گیا ہے اور عیسائی بھی اسی دوسرے عقیدہ پر قائم ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کہہ کر مطلق قتل کیا جانے کی بھی تردید کر دی اور صلیب پر مارا جانے کی بھی تردید کر دی اور فرما دیا کہ یہودیوں نے نہ مسیح کو قتل کیا ہے نہ صلیب پر مارا ہے لیکن وہ ان کے لئے فرما دیا