احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 30 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 30

تعلیمی پاکٹ بک 30 حصہ اوّل اگر منفی جملہ آئے تو پہلے جملہ کا مثبت فعل ولکن کے بعد محذوف ماننا پڑے گا اور اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ قَتَلُوهُ وَصَلَبُوهُ منْ شُبّه لهم (ملاحظہ ہو ان کی تصنیف شهادة القرآن صفحہ 50) اس توجیہ کا ترجمہ مولوی صاحب نے یوں لکھا ہے کہ لیکن انہوں نے اس شخص کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا جو ان کے لئے مسیح کے مشابہ بنایا گیا تھا۔توجیہ کی تردید : مولوی صاحب کی یہ توجیہ اور ان کے ساتھ بعض مفسرین کی اسی قسم کی تو جیہات صرف اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے یہ عقیدہ اختیار کر رکھا تھا کہ نہ صرف یہ کہ میچ کی موت صلیب پر واقع نہیں ہوئی بلکہ وہ صلیب پر چڑھائے بھی نہیں گئے اور اُس روایت کو قبول کر لیا جو پرانے معدوم عیسائیوں کے ایک حصہ میں چلی آتی تھی کہ مسیح کی جگہ دوسرا شخص شمعون قرینی یا یہوداہ اسکر یولی مسیح کا ہمشکل ہونے کی وجہ سے صلیب دیا گیا اور حضرت مسیح درمیان سے غائب ہو گئے۔اس روایت کی توثیق کسی حدیث نبوی مرفوع متصل سے نہیں ہوتی۔یہ روایت محض جعلی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح کو خدا نے بقول مولوی محمد ابراہیم صاحب آسمان پر زنده اٹھا لیا ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ کوکسی دوسرے شخص کو مسیح کا ہمشکل بنا کر صلیب دلوانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس طریق کے اختیار کرنے سے یہودی ہمیشہ کی گمراہی میں مبتلا رہ سکتے تھے کیونکہ انسان شکل ہی سے پہچانا جا سکتا ہے۔جب حضرت مسیح کی شکل دوسرے شخص کو دی گئی تو پھر خدا تعالیٰ نے خود ہمیشہ کیلئے یہود کی گمراہی کا سامان کیا کہ وہ کہتے رہیں کہ ہم نے عیسی بن مریم کو مارڈالا۔ایسی چال خدا کی شان کے منافی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے بالفرض حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر اٹھانا ہوتا تو پھر وہ