احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 409 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 409

(2) یتعلیمی پاکٹ بک 409 حصہ دوم اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اُسے دکھایا تھا۔دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارقِ عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔جو الہام الہی سے ملتی ہے۔جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزه صَرْحُ مُّمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ہے۔جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔اب جاننا چاہیئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 253-254 حاشیہ) اب یہ کس قدر ظلم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو حضرت مسیح کی تربی کاروائیوں کو باذنِ الہی آپ کا معجزہ قرار دیتے ہیں۔لیکن معترضین معمل التر ب کے ذکر کو حضرت مسیح کی تو ہین قرار دیتے ہیں۔پس خلاصہ بحث یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی تو ہین نہیں کی۔بلکہ عیسائیوں کو بطور الزام خصم انجیل کی رو سے اپنے اعتراضات میں ملزم گردانا ہے۔چنانچہ مسیح کا قول انجیل متی 7/1 میں یہ لکھا ہے:۔عیب نہ لگاؤ تا تم پر عیب نہ لگایا جائے“۔عیسائیوں کے اس قول کے ہوتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر گندے الزامات لگائے۔تو ضروری تھا کہ یسوع مسیح کی اس پیشگوئی کے مطابق عیسائیوں کے لئے بھی وہی پیمانہ استعمال کیا جاتا جو وہ استعمال کر رہے تھے۔پس از روئے تعلیم یسوع مسیح بھی مسلمانوں کی طرف سے مدافعت کے اس طریق کا استعمال ضروری تھا۔چنانچہ اس کا یہ اثر ہوا۔کہ اس کے بعد عیسائیوں نے اسلام اور بانی ء اسلام علیہ السلام پر نا پاک حملوں کا طریق چھوڑ دیا اور ان کی روش بدل گئی اور