احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 408 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 408

408 حصہ دوم کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا۔تو خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان مجو بہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے۔حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی خدمت میں مرکوز تھے باذن وحکم الہی اختیار کیا تھا۔ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257-258 حاشیہ) اس عبارت کو بھی باعث تو ہین سمجھا جاتا ہے۔اس وجہ سے کہ آپ نے اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت لکھا ہے۔مگر یہ عمل تو مکروہ اور قابل نفرت شریعت اسلامیہ کی رو سے ہے نہ کہ شریعت سابقہ توراۃ کی رو سے۔اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے ذوق کے لحاظ سے اس کو نا پسندیدہ سمجھتے ہوئے اس زمانہ کے لوگوں کے پست خیالات کی وجہ سے باذن و حکم الہی اختیار کیا تھا تا یہودی ہدایت پاسکیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عیسی علیہ السلام کے اس عمل کو جو اسلامی شریعت میں ناپسندیدہ اور خود حضرت مسیح کے ذوق کے بھی خلاف تھا۔پست فطرت یہودیوں کے جسمانی خیالات کی وجہ سے اختیار کرنا قرار دیا ہے۔پھر اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس زمانہ کے لوگوں کی فطرت کے لحاظ سے ایک عقلی معجزہ ہی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔(1) سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں:۔ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں۔جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔جیسا شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز