احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 390 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 390

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 390 حصہ دوم یہ ہے وہ شخصیت جس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اُسے انگریزوں نے اپنی جماعت کے لئے کھڑا کیا تھا اور اس سے دعوی کرایا تھا۔کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہیں انگریزوں کو ایسی حمایت کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ وہ شروع سے جانتے تھے کہ صلیب پرستی کے خلاف آپ شدید جوش رکھتے ہیں۔پس یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔آپ نے انگریزوں کی جو حمایت کی وہ شریعت کے عین مطابق تھی۔اور تمام علمائے ہند اُس وقت انگریزوں کے حامی تھے۔آپ نے انگریزوں کی حمایت کر کے اور ان کی اطاعت کی تعلیم دے کر مسلمانوں کو دائگی غلامی کی تعلیم نہیں دی۔کیونکہ جیسا کہ آپ کے مندرجہ بالا اعلان سے ظاہر ہے۔آپ کا دل اس یقین سے لبریز تھا کہ اسلام کی فتح کا زمانہ قریب آرہا ہے۔اور کفر کی صف جلد لپیٹ دی جائے گی اور دجال کا فتنہ پاش پاش ہو جائے گا۔اور سب ملتیں بجز اسلام کے ہلاک ہو جائیں گی۔اگر اس نے ایک عارضی وقت کے لئے ایک غیر ملکی مذہبی آزادی دینے والی حکومت سے تعاون کی ہدایت فرمائی تو یہ شرع شریف کے مطابق وقت کا عین تقاضا تھا۔انبیاء کی سنت یہی ہے کہ غیر ملکی سلطنت میں رہتے ہوں تو اس کے خلاف باغیانہ خیالات نہ رکھے جائیں۔کئی نبی جیسے حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام بُت پرست کا فر بادشاہوں کی حکومت میں زندگی گزارتے رہے ہیں۔بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام تو مصر کے بُت پرست بادشاہ کے ماتحت کارکن بھی رہے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر سرور کائنات کا طرز عمل بھی یہ بتاتا ہے کہ آپ نے مکہ کی حکومت کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی بلکہ جب اس کا ظلم انتہاء تک پہنچ گیا۔تو آپ نے اور آپ کے ماننے والوں نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا فرض منصبی اشاعت اسلام کا جہاد تھا۔انگریزوں