احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 391
عدی تعلیمی پاکٹ بک 391 حصہ دوم کی حکومت میں آپ کو اس بارہ میں پوری آزادی حاصل تھی اور انگریزوں نے چونکہ آپ سے عدل کا سلوک کیا۔اس لئے انگریزی حکومت آپ کے شکریہ کی مستحق تھی۔کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسِ“ سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب في شكر المعروف) کہ جولوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔3 خوشامد کے الزام کے رد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔(الف) بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیا ہے کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے۔یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسی بن مریم صلیب سے نجات پا کر اپنی موت طبعی سے بمقام سری نگر کشمیر مر گیا۔اور نہ وہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔کیا انگریز مذہبی جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے۔پس سنواے نادانو ! میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دینِ اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے۔قرآن شریف کی رو سے مذہبی جنگ کرنا حرام ہے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 75 حاشیہ) (ب) یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہر ایک ظالم کے حملہ سے محفوظ کرتا ہے۔میں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیدوار ہو کر کیا ہے بلکہ یہ کام محض اللہ