احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 16 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 16

16 حصہ اوّل تعلیمی پاکٹ بک پہلے رکھنے سے بھی خدا تعالیٰ کی طرف حضرت مسیح کا رفع جسم مراد نہیں ہوسکتا۔کیونکہ رفع جسمی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدا اوپر کی جہت میں ہو حالانکہ خدا تعالیٰ مقام اور جہت سے پاک ہے پس رفع جسم سے خدا تعالیٰ کا محدود المکان ہونا لازم آتا ہے اور یہ محال ہے۔ماسوا اس کے رفع الی اللہ کے معنی صرف خوش بختی یا خدا کا قرب دیا جانا ہوتے ہیں۔لغت میں ہے۔الرَّفَعُ ضِدُّ الْوَضْع وَفِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى الرَّافِعُ هُوَ الَّذِي يَرْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْاِ سُعَادِ وَأَوْلِيَاءَ هُ بِالتَّقْرِيبِ۔(لسان العرب والقاموس کہ رفع وضع کی ضد ہے اور اللہ کے ناموں میں سے ایک نام الرافع (رفع دینے والا) ہے۔یہ وہی ہے جو مومنوں کو خوش بختی اور اولیاء کو اپنا مقرب بنانے سے رفع دیتا ہے۔انہی امور کے مدنظر تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازی نے رَافِعُكَ کے معنی لکھے ہیں۔وَاعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَفَعَهُ فِي قَوْلِهِ وَرَافِعُكَ إِلَى هُوَ الرّفْعَةُ بالدَّرَجَةِ وَالْمَنْقَبَةِ لَا بِالْمَكَانِ وَالْجِهَةِ۔کہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ رَافِعُكَ اِلَی میں رفع درجہ اور منقبت ( منقبت بمعنی شان ) میں ہے نہ کہ مکان اور جہت میں۔3 - رفع الی اللہ کے ایک معنی باعزت وفات دینے کے بھی ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔النَّقْمَةُ۔اَكْرَمَ اللهُ نَبِيَّةَ أَنْ يُرِيَهُ فِي أُمَّتِهِ مَا يَكْرَهُ فَرَفَعَهُ إِلَيْهِ وَبَقِيَتِ البيهقى بحواله كيلي الموفى صفحه (28)