احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 17
تعلیمی پاکٹ بک 17 حصہ اول کہ خدا تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی یوں عزت افزائی فرمائی کہ آپ کی موجودگی میں اُمت کے لئے جو باتیں آپ کو نا پسند تھیں وہ ظاہر نہیں ہوئیں اور خدا نے آپ ﷺ کو اپنی اپنی طرف اُٹھالیا ( با عزت وفات دی) اور موجب عذاب باتیں بعد میں وقوع پذیر ہوئیں۔:4 قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول ہونے کی صورت میں جہاں بھی رفع کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں قرب منزلت ہی مراد ہے نہ کہ جسم کا اٹھایا جانا۔آیات قرآنیہ ): وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: 177) ب: مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجُتٍ۔(البقرة: 254 ) ج : رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتِ _ (الانعام : 166) : رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتٍ - (الزخرف: 33 ) : نَرْفَعُ دَرَجُتٍ مَّنْ نَّشَاءُ - (الانعام : 84 ) د لا و : وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ـ (مريم: 58) ز : يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَةٍ - (المجادلة:12) بعض لوگ کہتے ہیں کہ رفع کا صلہ جب الی ہو اور خدا فاعل ہواور مفعول انسان تو اس جگہ رفع جسمی مراد ہوتا ہے مگر یہ قاعدہ خودساختہ ہے اس کی کوئی شہادت اور مثال عربی زبان میں موجود نہیں۔حضرت انس کی اوپر درج کردہ حدیث اس کی تردید کرتی ہے۔وہاں تینوں شرطیں موجود ہیں مگر مراد وفات کے بعد قرب پانا ہے۔پھر آیت زیر بحث میں اِلی کا لفظ بھی موجود ہے السَّمَاء کا لفظ موجود