احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 15 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 15

تعلیمی پاکٹ بک 15 حصہ اول امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں: إِذَا أَمْكَنَ حَمُلُ الْكَلَامِ عَلَى ظَاهِرِهِ كَانَ الْمَصِيرُ إِلَى التَّقْدِيمِ وَالتَّاخِيرِ غَيْرَ جَائِزِ (تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 177) کہ جب کلام کو ظاہر پر محمول کیا جا سکے تو تقدیم و تاخیر کی طرف جانا نا جائز ہوتا ہے۔آیت ھذا میں صرف یہی بات نہیں پائی جاتی کہ اس کلام کا حمل ظاہر پر ممکن ہے بلکہ اس جگہ ترتیب کو ملحوظ نہ رکھنا امر محال ہے۔اگر تقدیم و تاخیر کر کے رافِعُكَ کو پہلے رکھا جائے اور مُتَوَفِّیک کو اس کے بعد رکھا جائے تو مُتَوَفِّیک کے لفظ کو مُطَهَّرُکَ سے پہلے رکھنا محال ہے۔کیونکہ تطھیر کا وعدہ تو رسول کریم ﷺ کے ذریعے پورا ہو چکا ہے۔اور حیات مسیح کے قائلین کے نزدیک اس وقت تک بھی وفات مسیح واقع نہیں ہوئی تھی۔اب مُتَوَفیت کے لفظ کو اٹھا کر جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوت سے پہلے بھی نہیں رکھ سکتے کیونکہ مسیح کے متبعین کو ان کے منکرین پر غلبہ بھی مل گیا اور قائلین حیات مسیح کے نزدیک ابھی تک حضرت مسیح کی وفات نہیں ہوئی۔۔۔۔یہ غلبہ کا وعدہ قیامت کے دن تک کے لئے ہے۔لہذا مُتَوَفِّيكَ كو إلى يَوْمِ الْقِمَةِ کے بعد رکھا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قیامت کے دن جب دوسرے لوگ زندہ ہو رہے ہوں گے اس دن حضرت مسیح کی وفات ہورہی ہوگی۔حالانکہ قیامت کا دن دوبارہ زندگی کا دن ہے۔نہ کسی کی موت کا لہذا اس آیت میں ترتیب کا بدلنا محال ہے اور کلام کا عمل ظاہر پر ہی از بس ضروری ہے۔پس حضرت مسیح کی وفات پہلے ہونے والی تھی اور رفع بعد میں لہذا اس جگہ روح کا رفع اور روحانی رفع ہی مراد ہوسکتا ہے۔2 اگر پھر بھی کوئی ترتیب بدلنے پر مصر ہو تو واضح رہے کہ رَافِعُكَ اِلَی کو