احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 333
ندی علیمی پاکٹ بک 333 حصہ دوم مطابق خود کوئی عملی تحریک اُٹھاتے ہیں اور بگڑی ہوئی دُنیا کو توڑ موڑ کر اپنے ہاتھوں سے نئی دُنیا بنانے کے لئے میدان میں نکل آتے ہیں۔تجدید و احیائے دین بحوالہ آفتاب صفحہ 71 مرتبہ خورشید الاسلام علی گڑھ ) ہم اس بحث کو تعطیر الا نام کے اس حوالہ پر ختم کرتے ہیں۔اس میں لکھا ہے:۔مَنْ رَأَى كَأَنَّهُ صَارَ الْحَقَّ سُبْحَانَهُ تَعَالَى اهْتَدَى إِلَى الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيم تعطير الانام الجزء الاوّل صفحه 10) کہ اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ وہ خدا بن گیا ہے۔تو اس کی تعبیر یہ ہوگی کہ اس شخص کو سیدھی راہ کی ہدایت مل گئی۔“ پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس کشف کی تعبیر یہی ہے کہ آپ صراطِ مستقیم پر ہیں اور معترضین حق پر ہیں۔واضح رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے رویا میں دیکھا تھا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:۔" إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَجِدِينَ (يوسف: 9) حضرت یوسف باپ کو خواب بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ چاند اور سورج اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔دوسری طرف سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اَلَمْ تَرَاَنَّ اللهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ - (الحج : 19) و یعنی کیا تو نے دیکھا نہیں کہ جو کوئی بھی آسمان میں ہے وہ اللہ تعالیٰ